1 اکتوبر 2026 - 16:48
عراقی رکن پارلیمنٹ: حقیقی خودمختاری کے لیے فیصلوں میں حکومتی آزادی ضروری ہے

عراقی رکن پارلیمنٹ محمد الدلیمی نے کہا ہے کہ حقیقی قومی خودمختاری اسی وقت ممکن ہے جب حکومت سکیورٹی، سیاست اور معیشت کے معاملات میں بیرونی دباؤ اور مداخلت سے آزاد ہو کر فیصلے کرے۔

خبر رساں ایجنسیابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی حکومت کی جانب سے امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی فوجی موجودگی کے خاتمے کے اعلان کے باوجود ملک میں حکومتی فیصلوں پر بیرونی اثر و رسوخ کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

الدلیمی نے ویب سائٹ المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے سیاسی فیصلے قومی مفادات کے مطابق اور متحدہ انداز میں ہونے چاہئیں۔ سکیورٹی ہو یا اقتصادی معاملات، ہر فیصلہ عراق کے اندر ہونا چاہیے اور کسی علاقائی یا بین الاقوامی دباؤ کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عراق کو ایک مضبوط ریاست کی تشکیل کے لیے اپنی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی صلاحیتیں بڑھانا ہوں گی تاکہ وہ اپنے فیصلوں اور قومی خودمختاری کا تحفظ کر سکے۔

دوسری جانب سیاسی امور کے تجزیہ کار علی عبدالرازق نے لبنانی اخبار الاخبار سے گفتگو میں کہا کہ عراق کی جانب سے 30 ستمبر کو ’’یومِ خودمختاری‘‘ قرار دینا کافی نہیں، کیونکہ امریکی اثر و رسوخ اب بھی ملک کے سیاسی اور اقتصادی فیصلوں پر موجود ہے۔

ان کے مطابق، امریکی فوجیوں کے انخلا کے باوجود واشنگٹن اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی ذرائع سے اپنا اثر برقرار رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عراق کے تیل، مالی وسائل اور امریکی فیڈرل ریزرو میں موجود عراقی رقوم پر امریکی اثر و رسوخ کو بھی خودمختاری کے لیے رکاوٹ قرار دیا۔

عراقی مزاحمت کے قریبی ذرائع نے بھی کہا کہ خودمختاری کا مطلب صرف امریکی فوجیوں کا انخلا نہیں بلکہ ترکی سمیت تمام غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور اقتصادی فیصلوں پر بیرونی تسلط سے آزادی بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق، عراق کے سامنے اصل چیلنج خودمختاری کے نعرے کو عملی صلاحیت میں بدلنا ہے، تاکہ ملک اپنی سرزمین، فضائی حدود، وسائل اور قومی فیصلوں کا تحفظ کر سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha